حال ہی میں دنیا بھر سے ایک خوشخبری سامنے آئی ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں تقریباً 30 لاکھ ہیکٹر جنگلات دوبارہ لگائے گئے ہیں، جو عالمی ماحولیات کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ یہ اقدام اقوامِ متحدہ اور مختلف ممالک کی جانب سے ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے، اور حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ نئے لگائے گئے درخت اور پودے نہ صرف فضائی آلودگی میں کمی لا رہے ہیں بلکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے عالمی درجہ حرارت کے بڑھنے کی رفتار کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
مزید یہ کہ جنگلات کی دوبارہ بحالی سے جنگلی حیات کے لیے محفوظ اور پائیدار مسکن پیدا ہوا ہے، جس سے نایاب اور خطرے سے دوچار جانور اپنی نسلیں برقرار رکھنے کے قابل ہو رہے ہیں۔ مقامی کمیونٹیز کو بھی اس عمل سے فائدہ پہنچ رہا ہے، کیونکہ جنگلات کی موجودگی سے زمین کے کٹاؤ میں کمی، پانی کے ذخائر میں بہتری اور زراعت کے لیے مناسب ماحول مہیا ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مثبت اقدامات نہ صرف موجودہ نسل کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی صاف ہوا، صحت مند ماحول اور پائیدار زندگی کے امکانات بڑھا رہے ہیں۔
یہ پیش رفت عالمی سطح پر ماحولیاتی توازن قائم رکھنے، عالمی موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے، اور انسانی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس کامیابی سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ مشترکہ عالمی کوششوں اور مقامی اقدامات کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ اور پائیداری کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔







